iztraar اضطرار
ابتدا ہے خیال کی .....
بدھ، 22 اپریل، 2026
میرے دوستو ....
پیر، 6 اپریل، 2026
محبت ایک ناگہانی ہے ....
عید کا چاند عنایت ہے...
ہفتہ، 11 جنوری، 2025
آیاں
کیا بتاؤں تم کومیں کے حال کیسا ہے......
جمعہ، 10 جنوری، 2025
کبھی ایسا بھی ہو ساقی .............
کبھی ایسا بھی ہو ساقی
میں بن جاوں صراحی
میرا کچھ نہ رہے باقی
میرا شوق ہوجاے پروانہ
بنا ڈالے مجھے شمع
پھر کردے مجھ کو دیوانہ
ستم یہ کے ستم در ستم چاہے
دل یہ کیسا کرم چاہے
عجب احساس ہے الفت یہ
ہر لمحہ اپنا بھرم چاہے
میں ہوں اور وہی زندان ہے
اب نہ جسم ہے نہ جان ہے
کہنے کو وہ میرا مہمان ہے
آخر کیا خواہش انسان ہے
یہ اسرار پیارا ہے لیکن
ایک تیرا خیال سہارا ہے لیکن
تیری خاموشی پر گزارا ہے لیکن
تھکی دھڑکن یہ کہتی ہے
یہاں کوئی ندی اب نہ بہتی ہے
وہی جھیل سی آنکھیں ہیں
وہاں اب کوئی اور رہتی ہے
اے باد ۓ وفا سن لے
اس چلمن کو نہ سرکنے دے
نہ اس دیوار کو گرنے دے
اس حسرت کو یوں ہی مرنے دے
یہ وہی ضبط کی کہانی ہے
لب پیاسے اور آنکھوں میں پانی ہے
محبت کی یہ زینت پرانی ہے
.....تو ہی تو ہے
میرے دوستو ....
میرے دوستو عمر گر وقت میں سمٹ آے کوئی دل اسے نہ قید کرپایے یہ جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے باقی جو گزری وہ کل کی کہانی ہے انہی پلوں کو...
-
کہیں کسی شہر میں پھر کسی کے گھر میں کوئی حسرتوں کا مارا آج مر گیا ہوگا دلوں کے بھید سارے جان لیتے ہیں ستارے خود اپنی ہی چال سے ک...
-
نہ نمازوں کا گلا مجھ سے نہ روزوں کی شکایت ہے میری تکرار سے فقط اس کو میری آرزو سے شکایت ہے وو پوچھتا ہے یہی مجھ سے آخر یہ کیسی محبت ...
-
کاروان نہیں تو کوئی غم نہیں ایک قافلہ سا تیرا ساتھ ہے تیرا کونسا رخ ہوگا حسین زندگی فیصلہ اب میرے ہاتھ ہے رویا کئے صدا بیکسیے نفس پر...





