پیر، 6 اپریل، 2026

محبت ایک ناگہانی ہے ....

 

محبت ایک ناگہانی ہے 
محبت نہ کوئی کہانی ہے 
محبت صدیوں پرانی ہے 
محبت آدم سے بھی پہلے 
محبت نور  آسمانی ہے 
محبت لہو کی روانی ہے 
محبت روح کا ہے عنصر 
محبت رب کی نشانی ہے 
 محبت ا یمان  صادق ہے 
محبت  لوح    قرانی ہے 
محبت ہے  داستان   سلیمانی  
محبت شیشوں کی زبانی ہے 
محبت صدیق  کی زینت ہے 
محبت یار کی جانفشانی ہے 
محبت شمشیر حیدر ہے 
محبت بےلوث  قربانی ہے 
محبت فاروق  کا  تیور ہے
 محبت غنی کی حکمرانی ہے 
محبت احساس خدا کا ہے 
محبت محبو ب   دو جہانی ہے
محبت محمد کا صدقہ ہے 
محبت عاشقوں کی شادمانی ہے 
محبت احساس دلگیروں  کا  
محبت  درد  کی جوانی ہے 
محبت انسان کی فطرت ہے   
محبت رب کی ذو فشانی ہے 
محبت نازاں اپنی قسمت پر 
محبت رب کی مہربانی ہے 
  محبت محبوب کی  صورت ہے 
محبت  ہر  پل منانی ہے 

عید کا چاند عنایت ہے...

عید  کی خوشیوں میں مہکتی ہے 
آج بھی اماں  کے دامن کی مہک 
دروازے پہ  جمی  منتظر وہ نظر 
 بعد نماز  ابّا   کا  ہونا  تھا گزر 

انہی خوشیوں میں ملا کرتی ہے عید  سیعد 
سب کی خوشیاں تھیں  اپنی خوشیوں کی کلید 
   یہی  یادیں آج  بھی  ہیں  زندگی  کی  نوید 
زندگی ہم نے کی انہی خوشیوں سے کشید 

میرے دوستو احساس میں ہے اب تک موجود 
 وہ  دعاؤں  کی سحر ، وہ محبتوں  کے سجود  
ہر پل بندے کے عمل میں ہے خدا کا نمود 
خالق  کی حکمت عملی خلق  کی ہے فلاح و بہبود 

خدا بندے کے قرب کا ہے یہ جواز 
جہاں حق کے قریب ہوجاتا ہے مجاز 
عشق حقیقی کی شناسائی  ہے عبادت کی خراج 
ماہ رمضان  نے  بدلے  ہیں  بندوں کے  مزاج  
ہیں رب کے فرمانوں میں پوشیدہ ہیں رحمتوں کے اعجاز  
عام  و خاص کے لئے لاے میرے حضور  تحفہ    نماز 

خدا  کو   بندے کا  ایثار  و عجز   اتنا ہے پسند 
اپنی رحمتوں سے کئے  ہیں ان کے درجات بلند 
عید کا چاند  عنایت ہے اور یہ کسوٹی ہے کمند 
میرےدوستوں  کے ساتھ جو گزرے عید  اسکو  ہے پسند 
 

ہفتہ، 11 جنوری، 2025

آیاں




تیری نظر سے میری نظر تک 
حسین احساسات کا سفر ہے
------------------------
تیرے نازک لبوں کی نرمی 
تیرے نرم احساس کی گرمی 
تیرے رخساروں کی یہ لالی 
تیری نظر نظر متوا لی  
جیسے ہو شہد  کی کوئی   پیالی 
تجھ پر نگاہ جسنے  ڈالی  
 دل  ہر غم   سے ہوا  خالی 
کتنے نالاں تھے فاصلوں  سے
ہم  بھولے  سبھی خوشی سے 
کوئی  گلہ رہا  نہ زندگی سے  
تجھے  پایا ہے  بندگی سے 
تو گواہ اسی کا ہے جان میری 
اس کی پہچان سے ہے شان تیری 
 وجود  سے تیرے   خوشبو اسی کی آے 
تیری ماں میں ہیں اسی کے سایے 
اس کے کرم کی انتہا تو ہے 
تو ہی حاصل  مدعا تو ہے    

کیا بتاؤں تم کومیں کے حال کیسا ہے......





کیا بتاؤں  تم کومیں کے حال کیسا ہے

اس خوش رنگ موسم میں ملال کیسا ہے

نبض آشنا جانتا ہے حد دھڑکنوں   کی لے

ہر احساس حیران ہے یہ کمال کیسا ہے

رکتی ہوئی  سانسوں کو وہ رکنے نہیں دیتا

اپنی آنکھیں ملتا  ہوا یہ وصال کیسا ہے

دم توڑتی امید کے مقابل یاد ہے اس کی

گر محبت ایمان ہے تو سوال کیسا ہے

طلب کی جستجو گر ضایع کردیگی حاصل کو

پھر خدا بندے کا رشتہ لازوال کیسا ہے

صدا ان خیالوں سے گویا ہے تیری خاموشی

ایک رشتہ ان سنا سا بےمثال کیسا ہے

جمعہ، 10 جنوری، 2025

کبھی ایسا بھی ہو ساقی .............




کبھی ایسا بھی ہو ساقی 

میں بن جاوں  صراحی 

میرا کچھ نہ رہے باقی 

میرا شوق ہوجاے پروانہ 

بنا ڈالے مجھے  شمع 

پھر کردے مجھ کو  دیوانہ 

ستم یہ کے ستم در ستم چاہے

دل یہ کیسا کرم چاہے 

عجب احساس ہے الفت یہ 

ہر لمحہ اپنا بھرم چاہے 

میں ہوں اور وہی زندان ہے 

اب نہ جسم ہے نہ جان ہے 

کہنے کو وہ میرا مہمان ہے 

آخر کیا خواہش  انسان ہے 

یہ اسرار    پیارا ہے لیکن 

ایک تیرا خیال سہارا ہے لیکن 

تیری خاموشی پر گزارا ہے لیکن 

تھکی دھڑکن یہ کہتی ہے 

یہاں کوئی ندی اب نہ بہتی ہے 

 وہی جھیل سی آنکھیں ہیں 

وہاں اب کوئی اور رہتی ہے 

اے  باد ۓ وفا سن لے 

اس چلمن کو نہ سرکنے دے 

نہ اس دیوار کو گرنے دے 

اس حسرت کو یوں ہی مرنے دے 

یہ وہی ضبط کی کہانی ہے 

لب پیاسے اور آنکھوں میں پانی ہے 

محبت کی یہ زینت پرانی ہے  

.....تو ہی تو ہے

 




میرے خیال کو تنفید منظور ہی نہیں

میں مکمل ہوں کیا ہوا خام ہوں ابھی

میرے خیال خود حیران ہیں اپنے نزول پر

میں خاص نہ سہی خیالے عام ہوں ابھی

ہوتے رہینگے تیرے میرے دل سے یہ کشید

میرا خیال ہے میں گام گام ہوں ابھی

دلوں کے بھید پا گئے ہیں خیال ہو کر زبان

یہ تمہارا ہے کرم طشت از بام ہوں ابھی

کھلتے ہیں گل محبتوں کے خار کے ہی سنگ

شاید اسی لئے فاسد گلچیں کا الزام ہوں ابھی

یہ دنیا کے جمگھٹے ہیں خود سے بھی بےخبر

ان کے لئے دنیا کی بھیڑ میں ایک نام ہوں ابھی

یارب تو نے عنصر کائنات کا بنایا ہے آدمی

تو ہی تو ہے، میں بھی میں نہیں،ایک پیام ہوں ابھی

...کاش




کاش زندگی خواب ہی ہوتی

نہ جاگنے کا سوال ہوتا

نہ ہوتی تعبیر کی کوئی حسرت

نہ وصل ہجر کا کوئی ملال ہوتا

جو تھا خمار تھا صحبتوں کا

نہ دل کو ہوش ہوتا نہ یہ حال ہوتا

وہ فرار تھا میری بچینیوں کا

کاش وقت کو نہ کوئی زوال ہوتا

ایک تیری ہمنشینی گراں قدر تھی

تو نہیں تو کہاں کوئی خیال ہوتا

 موج ے بحر  ے  غم کی زد میں

یاد کا ہر لمحہ جاناں وصل ہوتا

محبت ایک ناگہانی ہے ....

  محبت ایک ناگہانی ہے  محبت نہ کوئی کہانی ہے  محبت صدیوں پرانی ہے  محبت آدم سے بھی پہلے  محبت نور  آسمانی ہے  محبت لہو کی روانی ہے  محبت روح...