منگل، 12 دسمبر، 2023

ایک تیری نگاہ کیا پڑی....


ایک تیری نگاہ کیا پڑی
سارے جلوے ہوے پراے
جب بھی لیتی ہوں ہاتھ میں قلم
تیرا ہی عکس لفظوں میں ڈھل جائے
اسکے سوا کیا آرزو ہے میری
خلوت ہو محفل تیری سجاے
فریب نظر اتنا ہے دلفریب
ہر شے میں تو ہی نظر آے
جب آیا ہے تو آ پاس ذرا
پل دو پل میرا جوبن بھی مہک جائے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میرے دوستو ....

میرے دوستو  عمر گر وقت میں سمٹ آے  کوئی دل اسے نہ قید کرپایے  یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے   باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے  انہی پلوں  کو...