لذّتےعشق گر گناہ ہوجاے
کبھی ہم سے بھی یہ خطا ہوجاے
عقل و شعور کا اب تو خدا حافظ
جب عشق کی ہر ادا خدا ہوجاے
پروانہ جلا شمع پر سحر ہونے تک
سوزے عشق مجھے عمر بھر عطا ہوجاے
میرے دوستو عمر گر وقت میں سمٹ آے کوئی دل اسے نہ قید کرپایے یہ جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے باقی جو گزری وہ کل کی کہانی ہے انہی پلوں کو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں