میرے دوستو
عمر گر وقت میں سمٹ آے
کوئی دل اسے نہ قید کرپایے
یہ جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے
باقی جو گزری وہ کل کی کہانی ہے
انہی پلوں کو ہو سکے تو جاویداں کرلو
انہی پلوں میں اپنے حسین رنگ بھر لو
تمہاری کسوٹی یہ حسین رشتے ناتے ہیں
جنہیں تم نے بیش قیمت پل اپنے بانٹے ہیں
یہ سودا بےغرض ہے کاروبار-ے - ہستی کا
کر دعا نہ کر شکوہ غم -ے- ہستی کا
ازل سے دنیا میں غلطاں ہے انسان
زمانے بدلتے ہیں مگر نہ بدلے انسان
خالق نے اپنی ڈیوٹی تمہارے ذمے لگائی ہے
اسی لئے ماں باپ کے قدموں تلے جنّت بچھائی ہے
اب گلہ کیسا بھی جو بوےگا وہ کاٹےگا
دل توڑنے والا لاکھوں میں پہچانا جاےگا
آخر اپنے دل سے بچ کر کہاں جاےگا
میری مانو مرکز دل کا بدل ڈالو دوستو میرے
نظر اٹھاؤ خود کو پہچانو دوستو میرے
زندگی با مقصد ہو تو ہر طرح مکمل ہے
جس کے پیش-ے- نظر کرم ہو وہی انسان اکمل ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں