منگل، 9 جولائی، 2024

ہوں میں بھی ایک نشان تیرا......







نہ نمازوں کا گلا مجھ سے 
نہ روزوں کی شکایت ہے 
میری تکرار سے فقط اس کو 
میری آرزو سے شکایت ہے
وو پوچھتا ہے یہی مجھ سے 
 آخر   یہ کیسی محبت ہے
تجھے اختیار دیے  سارے
بتا اور کیا تیری ضرورت ہے 
پرندہ  قفس  پہ  کہاں شاکر 
پرواز پر  تیری قدرت ہے 
ہیں دایرے   تنگ  اصولوں کے   
محبت ایک روشن ہدایت ہے 
ہوں میں بھی ایک نشان تیرا
 مذہب تبلیغہ محبت ہے  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میرے دوستو ....

میرے دوستو  عمر گر وقت میں سمٹ آے  کوئی دل اسے نہ قید کرپایے  یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے   باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے  انہی پلوں  کو...