بدھ، 22 اپریل، 2026

میرے دوستو ....



میرے دوستو 
عمر گر وقت میں سمٹ آے 
کوئی دل اسے نہ قید کرپایے 
یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے  
باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے 
انہی پلوں  کو ہو سکے تو جاویداں کرلو 
انہی پلوں  میں  اپنے حسین رنگ بھر لو 
تمہاری کسوٹی یہ حسین   رشتے ناتے ہیں 
جنہیں تم نے بیش قیمت  پل اپنے بانٹے ہیں 
یہ سودا بےغرض ہے کاروبار-ے - ہستی کا 
کر دعا   نہ کر شکوہ غم -ے- ہستی کا 
ازل سے دنیا میں غلطاں ہے انسان 
زمانے بدلتے ہیں مگر   نہ بدلے انسان  
خالق  نے  اپنی  ڈیوٹی تمہارے ذمے   لگائی ہے 
اسی لئے ماں  باپ کے قدموں تلے جنّت بچھائی ہے 
اب گلہ  کیسا  بھی جو بوےگا وہ کاٹےگا  
دل توڑنے والا لاکھوں میں   پہچانا جاےگا  
آخر   اپنے دل سے بچ کر کہاں جاےگا  
میری مانو مرکز  دل کا  بدل ڈالو دوستو میرے 
 نظر  اٹھاؤ  خود کو پہچانو  دوستو میرے  
   زندگی با مقصد ہو تو ہر طرح مکمل ہے 
جس کے پیش-ے-  نظر کرم ہو وہی انسان اکمل ہے 

پیر، 6 اپریل، 2026

محبت ایک ناگہانی ہے ....

 

محبت ایک ناگہانی ہے 
محبت نہ کوئی کہانی ہے 
محبت صدیوں پرانی ہے 
محبت آدم سے بھی پہلے 
محبت نور  آسمانی ہے 
محبت لہو کی روانی ہے 
محبت روح کا ہے عنصر 
محبت رب کی نشانی ہے 
 محبت ا یمان  صادق ہے 
محبت  لوح    قرانی ہے 
محبت ہے  داستان   سلیمانی  
محبت شیشوں کی زبانی ہے 
محبت صدیق  کی زینت ہے 
محبت یار کی جانفشانی ہے 
محبت شمشیر حیدر ہے 
محبت بےلوث  قربانی ہے 
محبت فاروق  کا  تیور ہے
 محبت غنی کی حکمرانی ہے 
محبت احساس خدا کا ہے 
محبت محبو ب   دو جہانی ہے
محبت محمد کا صدقہ ہے 
محبت عاشقوں کی شادمانی ہے 
محبت احساس دلگیروں  کا  
محبت  درد  کی جوانی ہے 
محبت انسان کی فطرت ہے   
محبت رب کی ذو فشانی ہے 
محبت نازاں اپنی قسمت پر 
محبت رب کی مہربانی ہے 
  محبت محبوب کی  صورت ہے 
محبت  ہر  پل منانی ہے 

عید کا چاند عنایت ہے...

عید  کی خوشیوں میں مہکتی ہے 
آج بھی اماں  کے دامن کی مہک 
دروازے پہ  جمی  منتظر وہ نظر 
 بعد نماز  ابّا   کا  ہونا  تھا گزر 

انہی خوشیوں میں ملا کرتی ہے عید  سیعد 
سب کی خوشیاں تھیں  اپنی خوشیوں کی کلید 
   یہی  یادیں آج  بھی  ہیں  زندگی  کی  نوید 
زندگی ہم نے کی انہی خوشیوں سے کشید 

میرے دوستو احساس میں ہے اب تک موجود 
 وہ  دعاؤں  کی سحر ، وہ محبتوں  کے سجود  
ہر پل بندے کے عمل میں ہے خدا کا نمود 
خالق  کی حکمت عملی خلق  کی ہے فلاح و بہبود 

خدا بندے کے قرب کا ہے یہ جواز 
جہاں حق کے قریب ہوجاتا ہے مجاز 
عشق حقیقی کی شناسائی  ہے عبادت کی خراج 
ماہ رمضان  نے  بدلے  ہیں  بندوں کے  مزاج  
ہیں رب کے فرمانوں میں پوشیدہ ہیں رحمتوں کے اعجاز  
عام  و خاص کے لئے لاے میرے حضور  تحفہ    نماز 

خدا  کو   بندے کا  ایثار  و عجز   اتنا ہے پسند 
اپنی رحمتوں سے کئے  ہیں ان کے درجات بلند 
عید کا چاند  عنایت ہے اور یہ کسوٹی ہے کمند 
میرےدوستوں  کے ساتھ جو گزرے عید  اسکو  ہے پسند 
 

میرے دوستو ....

میرے دوستو  عمر گر وقت میں سمٹ آے  کوئی دل اسے نہ قید کرپایے  یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے   باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے  انہی پلوں  کو...