پیر، 6 اپریل، 2026

عید کا چاند عنایت ہے...

عید  کی خوشیوں میں مہکتی ہے 
آج بھی اماں  کے دامن کی مہک 
دروازے پہ  جمی  منتظر وہ نظر 
 بعد نماز  ابّا   کا  ہونا  تھا گزر 

انہی خوشیوں میں ملا کرتی ہے عید  سیعد 
سب کی خوشیاں تھیں  اپنی خوشیوں کی کلید 
   یہی  یادیں آج  بھی  ہیں  زندگی  کی  نوید 
زندگی ہم نے کی انہی خوشیوں سے کشید 

میرے دوستو احساس میں ہے اب تک موجود 
 وہ  دعاؤں  کی سحر ، وہ محبتوں  کے سجود  
ہر پل بندے کے عمل میں ہے خدا کا نمود 
خالق  کی حکمت عملی خلق  کی ہے فلاح و بہبود 

خدا بندے کے قرب کا ہے یہ جواز 
جہاں حق کے قریب ہوجاتا ہے مجاز 
عشق حقیقی کی شناسائی  ہے عبادت کی خراج 
ماہ رمضان  نے  بدلے  ہیں  بندوں کے  مزاج  
ہیں رب کے فرمانوں میں پوشیدہ ہیں رحمتوں کے اعجاز  
عام  و خاص کے لئے لاے میرے حضور  تحفہ    نماز 

خدا  کو   بندے کا  ایثار  و عجز   اتنا ہے پسند 
اپنی رحمتوں سے کئے  ہیں ان کے درجات بلند 
عید کا چاند  عنایت ہے اور یہ کسوٹی ہے کمند 
میرےدوستوں  کے ساتھ جو گزرے عید  اسکو  ہے پسند 
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

محبت ایک ناگہانی ہے ....

  محبت ایک ناگہانی ہے  محبت نہ کوئی کہانی ہے  محبت صدیوں پرانی ہے  محبت آدم سے بھی پہلے  محبت نور  آسمانی ہے  محبت لہو کی روانی ہے  محبت روح...