منگل، 12 دسمبر، 2023

پھر ایک شب تیری یاد بن کر ....

 


پھر ایک شب تیری یاد بن کر

سارے لمحے خاروں سے چن کر

ایک ایک گل سے خوشبو چرا کر

کتنے خونیں رنگوں میں نہا کر

ساری سرپھری خواہشوں کو سلا کر

چپکے سے کہتی ہے کانوں میں آ کر

محبت اسے راس آے وفا کر

دیکھ وہ چلتا ہے دامن بچا کر

ریاکار ملتے ہیں پردہ گرا کر

کتنا کہا تھا نہ خود سے ملا کر

خطاکار کے لئے نہ تو خطا کر

آہ روشن ہوا دل سب  کچھ جلا  کر

آئینے اب نہ مجھ پر یوں ہنسا کر

رب ملا ہے اسے دل میں بسا کر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

محبت ایک ناگہانی ہے ....

  محبت ایک ناگہانی ہے  محبت نہ کوئی کہانی ہے  محبت صدیوں پرانی ہے  محبت آدم سے بھی پہلے  محبت نور  آسمانی ہے  محبت لہو کی روانی ہے  محبت روح...