اتوار، 12 نومبر، 2023

چند لفظ سماعتوں سے مل کر .....




چند لفظ سماعتوں سے مل کر 

خیال میں  مقید ہوگئے  ہیں 

دھڑکنوں میں گھل گئے ہیں 

لگتا ہے وہی  متاع کل  ہیں

ابدی  حسن زندگی کا وہی ہیں  

ہے انہی لفظوں کی مہربانی 

خلا زندگی کا بھر گئے ہیں 

خوابوں کا حقیقتوں سےناطہ 

وہی لفظ جوڑ  کر گئے ہیں 

عمر  گزری دشت وصحرا کی مانند 

 خوشبو  بن کر  وہیں بکھر گئے ہیں

درون  خانہ  سناٹوں کا ہے عادی 

یہ ان خلوتوں میں اتر  گئے ہیں 

بھلایا تھا جنہوں نے حال ماضی 

جسم و جان میں ٹہر   گئے ہیں 

ان بھٹکتی سانسوں کاآسرا  وہی ہیں 

وہی لفظ خاموشی سے وفا کر گئے ہیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میرے دوستو ....

میرے دوستو  عمر گر وقت میں سمٹ آے  کوئی دل اسے نہ قید کرپایے  یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے   باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے  انہی پلوں  کو...