بدھ، 21 اگست، 2024

سچ کہتے تھے پرانے دلوں کے لوگ ...




سچ کہتے تھے پرانے دلوں کے لوگ 
سب کچھ رہیگا، ایک نہ رہیگا تو 
ڈبو یگی  تیری سوچ، تو کیا رہا ہے سوچ 
سب کچھ بچیگا ، ایک  نہ بچ سکےگا تو 
لڑتا ہے زمانے سے کیا، ان کی نہ ہی پوچھ 
سب اپنی کہیں گےلیکن،ایک اپنی کہے نہ سکےگا تو 
کر اپنا پہلے تجزیہ ، اوروں کی نہ کھال نوچ 
ہر سوز ہے الگ، ایک نا سمجھ  رہیگا تو 
زندان ہے زندگی، یوں نہ اسے کھروچ 
ہیں یہ زنجیر خواہشیں ، آزاد ہو نہ سکےگا تو 
تیری ضد  ہے آسمان، مرضی آسمان کی تو پوچھ
یہ مٹی کا سفر ہے، مٹی  میں بھی نہ رہیگا تو   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میرے دوستو ....

میرے دوستو  عمر گر وقت میں سمٹ آے  کوئی دل اسے نہ قید کرپایے  یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے   باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے  انہی پلوں  کو...