منگل، 21 نومبر، 2023

رت ہے رحمتوں کی ....



رت ہے رحمتوں کی 

موسم ہے بخششوں کا 

کوئی لمحہ فیض کا 

بس مل جانے کو ہے 

وہ  سرخ رنگ موسم

پھر سے آنے کو ہے 

پھر رنگ اس کے دل کا 

رنگ لانے کو ہے   

کچھ اور درد  کو 

تو نکھر جانے دے 

پھر اس  گھڑی کو 

تو قریب آنے دے 

ابھی بڑا ہی   مزہ ہے

اس خود فراموشی میں 

لہذا  لہذا  یوں  بکھرتی 

ان بے ترتیب دھڑکنوں میں 

  کوئی مسلسل کہ رہا ہے 

تو سدا  میرا رہا ہے  

کسی زمین، آسمان میں  

میرے یقین، میرے گمان میں 

ایک مبہم خیال بن کر 

مجھ میں چھپا ہوا ہے 

وہیں دوست کا  مرتبہ ہے 

وہی عظمتے  دعا   ہے  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میرے دوستو ....

میرے دوستو  عمر گر وقت میں سمٹ آے  کوئی دل اسے نہ قید کرپایے  یہ  جو لمحہ ہے یہی زندگانی ہے   باقی جو گزری  وہ کل کی کہانی ہے  انہی پلوں  کو...